مرکز تحقیق پاکستان
مصطفائی کالج برائے خواتین
ایمز کیمبرج سسٹم
مصطفائی ماڈل سکول
مدرسہ جامعہ قادریہ رضویہ
نیوز لیٹر رجسٹریشن کے لئے
 

دینی تعلیم :       ایف اے کرنے کے بعد حضرت مولانا عبدالقادر صاحب علیہ الرحمۃ بی اے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اور داخلہ لےنے کی کوشش میں تھے ۔ کہ ان ہی ایام میں حضرت فیضد رجت ،پیر طریقت،رہبرِ شریعت آفتاب ِ علم وحکمت علامہ مولانا شیخ الحدیث الحاج ابوالفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سرہٰ العزیز احمد آباد تشریف لائے تھے ۔ مناظرہ کے بعد مواعظ وتقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ شہر کے مختلف مقامات پر روزانہ جلسے ہونے لگے ۔ آپ کا قیام چونکہ مولانا عبدالقادر صاحب کے داداجان کے ہاں تھا۔ اس لئے مولانا بھی آپ کے ساتھ روزانہ جلسوں میں جاتے اور واپسی پر دیر تک آپکی خدمت میں حاضر رہتے ۔ ایک رات جب تمام عقیدت مند اٹھ کر چلے گئے تو حضرت محدث اعظم علیہ الرحمۃ نے مولانا عبدالقادر صاحب علیہ الرحمۃ سے فرمایا "-----عزیزم تمہارے داداجان کا اتنا بڑ ا کتب خانہ ہے کیسی کیسی نایاب کتابیں ہیں ۔ تم انگریزی تعلیم حاصل کررہے ہو ۔ ذراسوچو تو سہی کہ تمہارے والد محترم کے بعد اس کتب خانے کا کیا مصرف ہوگا ۔ چھوڑو انگریزی تعلیم کو اور دینی تعلیم حاصل کرو "۔ ایک ولی کامل کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ مولانا عبدالقادر صاحب کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئے ۔ طبیعت میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو گیا ۔ فوراََ بی ۔اے میں داخلہ لینے کا ارادہ ترک کرکے حضرت محدث اعظم قدس سرہٰ کے ساتھ بریلی شریف جا پہنچے ۔ اور دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔ حضرت محدث اعظم قدس سرہٰ نے آپکی تعلیم کا نہایت معقول انتظام فرمادیا ۔ آپ نے ابتدائی اسباق حضرت مولانا علامہ عبدالرشید صاحب جھنگوی مدظلہ العالی سے شروع کئے ۔ رمضان المبارک کی تعطیلات آپ نے اپنے استادِ محترم کے ساتھ جھنگ میں گذاریں ۔ اور جب علامہ عبدالرشید صاحب مدظلہ العالی نے جامعہ نقشبندیہ علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا تو مولانا عبدالقادرصاحب علیہ الرحمۃ بھی آپ کے پاس وہیں تعلیم حاصل کرنے لگے ۔ علی پور شریف میں دوسال گذارنے کے بعد مولانا عبدالقادر صاحب علیہ الرحمۃ دوبارہ بریلی شریف آگئے اور یہاں آکر حضرت محدث اعظم اور حضرت مولانا علامہ قاری وقارالدین صاحب قدس سرہٰ العزیز دامت برکاتہم جیسی مبارک ہستیوں سے معقول ومنقول کی کتابیں پڑھیں ۔

پچھلا صفحہ گلا صفحہ



JamiaQadriaRizvia © 2008 Privacy Policy Terms Of Use